Thursday, June 2, 2022

جانثار صحابی رسول ﷺ، سید الانصار، حضرت سیدنا سعد ابن معاذ انصاری اشہلی اوسی رضی اللہ تعالی عنہ


 

جانثار صحابی رسول ﷺ، سید الانصار، حضرت سیدنا سعد ابن معاذ انصاری اشہلی اوسی رضی اللہ تعالی عنہ و ارضاہ حضور اکرم ﷺ کی مدینہ منوہ تشریف آوری سے قبل مبلغ اسلام حضرت سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ کی دعوت پر کلمہ پڑھ کر دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے اور پھر آپ کی دعوت پر آپ کا پورا قبیلہ دولت اسلام سے مالا مال ہو گیا۔ انصار میں سب سے پہلے آپ کا گھرانہ ایمان لایا۔ آپ عظیم مجاہد اسلام، قبیلۂ بنو عبد الاشہل کے سردار، نہایت جرأت مند، دلیر، اور انتہائی نشانہ باز تیر انداز تھے۔ غزوۂ بدر و احد میں شریک ہوئے، اور احد میں حضور ﷺ کے ساتھ ثابت قدم رہے۔ غزوۂ خندق 5ھ میں مرتبہ شہادت پر فائز ہوئے۔ وقت شہادت آپ کی عمر مبارک صرف 37 سال تھی۔ پیارے آقا و مولا ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ستر ہزار فرشتے آپ کے جنازے میں شریک ہوئے۔ آپ جنت البقیع شریف میں آرام فرما ہیں۔ (سنن النسائی، اسد الغابہ، طبقات ابن سعد، مغازی للواقدی)


Companion of the beloved Prophet ﷺ, Sayyid al-Ansar, Sayyiduna Sa’d Ibn Mu’adh Ansari Ashhali Awsi (RadiyAllahu Anhu wa Ardah) embraced Islam at the hands of Sayyiduna Mus’ab ibn Umair (RadiyAllahu Anhu) before the blessed arrival of the beloved Prophet ﷺ in Madinah Munawwarah. And then at his invitation, his whole tribe embraced Islam. His family was the first to enter Islam among Ansar. He was a great Mujahid of Islam, leader of Banu Abd al-Ashhal, very brave, courageous, and extremely focused archer. He participated in the battles of Badr and Uhud and remained steadfast with the beloved Prophet ﷺ in Uhud. He was martyred in the Battle of Trench in 5 AH. He was only 37 years young at the time of his martyrdom. Our beloved Master ﷺ said that 70,000 angels attended his funeral. His blessed resting place is in Jannat al-Baqi’ Cemetery. [Sunan Nasa’i, Usd-ul-Ghabah, Tabaqat Ibn Sa’d, Maghazi lil Waqidi]

محسن اہل سنت، مرید و خلیفہ و وکیل اعلی حضرت، مصنف بہار شریعت، حضرت صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ مولانا الحاج مفتی محمد امجد علی اعظمی حنفی قادری رضوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ


محسن اہل سنت، مرید و خلیفہ و وکیل اعلی حضرت، مصنف بہار شریعت، حضرت صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ مولانا الحاج مفتی محمد امجد علی اعظمی حنفی قادری رضوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت 1300ھ مطابق 1882ء گھوسی، یو پی، ہند میں ہوئی۔ آپ درس و تدریس، تصنیف و تالیف اور فتاوی نویسی کے ذریعے تمام عمر دینِ متین کی خدمت میں کوشاں رہے۔ دیگر تصانیف کے ساتھ ساتھ آپ نے فقہ حنفی کی معتمد و ضخیم عربی کتب سے فقہی مسائل کو اردو زبان میں منتقل کر کے ”بہارِ شریعت“ جیسی عظیم الشان کتاب تصنیف فرما کر امت مسلمہ پر احسانِ عظیم فرمایا۔ سفر حج کے دوران 2 ذی القعدہ 1367ھ مطابق 6 ستمبر 1948ء شب پیر شریف تقریباً 12 بجکر 30 منٹ پر بمبئی میں وصال فرمایا۔ گھوسی، ضلع اعظم گڑھ، ہندستان میں آپ کا مزار مبارک زیارت گاہ خاص و عام ہے۔ (سیرت صدر الشریعہ)


Benefactor of Ahl as-Sunnah; Disciple and Accredited Successor of AlaHadrat; the author of Bahar-e-Shari’at, Sadr al-Shari’ah, Badr al-Tariqah, Allamah Mawlana Al-Haaj Mufti Muhammad Amjad Ali A’zami Hanafi Qadiri Ridawi (Alayhir Rahmah) was born in 1300 AH (1882 CE) in Ghausi, East U.P., India. He dedicated his whole life to serving Islam by engaging himself in religious activities such as teaching, authoring and compiling books, and writing Islamic verdicts. Besides writing other Islamic books, it is his great favor upon the Muslim Ummah that he compiled the rulings of Fiqh spread in various authentic and voluminous Arabic books of Hanafi Fiqh and prepared a glorious Urdu literary work, making it an Islamic encyclopedia named ‘‘Bahar-e-Shari’at’’. He passed away during the journey of Hajj on Monday night, the 2nd night of Zul-Qa’dah, 1367 AH (i.e. 6th September 1948), at 12:30 am approx. His blessed mausoleum in Ghausi (District Azamgarh, India) is visited frequently by the devotees. [Seerat-e Sadrush Shariah]

 

Tuesday, May 31, 2022

حضرت سیدتنا اسماء بنت ابوبکر الصدیق رضی الله عنہما


حضرت سیدتنا اسماء بنت ابوبکر الصدیق رضی الله عنہما ہجرت سے 27 برس پہلے پیدا ہوئیں۔ آپ کا شمار قدیم الاسلام صحابیات میں ہوتا ہے۔ آپ کی ذات ان گنت خوبیوں اور فضائل وکمالات کی جامع ہے۔ آپ کے والد صدیق اکبر اور شوہر سیدنا زبیر بن العوام رضی الله عنہما دونوں ہی عشرۂ مبشرہ میں سے ہیں۔ عشق رسول ﷺ، دین داری، حق گوئی، جرأت و دلیری، صبر و استقلال اور تسلیم و رضا ساری زندگی آپ کا طرۂ امتیاز رہا۔ 27 جمادی الاولیٰ 73ھ یعنی اپنے بیٹے سیدنا عبد الله بن زبیر رضی الله عنہ کی شہادت کے دس روز بعد اس دارِ فانی سے انتقال فرمایا۔ وفات شریف کے وقت آپ کی عمر مبارک سو برس تھی اور اس قدر سِن رسیدہ ہونے کے باوجود آپ کا کوئی دانت نہ گرا تھا اور عقل و حواس بھی بالکل صحیح وسلامت تھے۔ (معرفة الصحابہ، الاستیعاب، الاصابہ)
 

حافظ ملت حضرت علامہ شاہ عبد العزیز محدث مراد آبادی ثم مبارکپوری علیہ رحمۃ اللہ القوی


 حافظ ملت حضرت علامہ شاہ عبد العزیز محدث مراد آبادی ثم مبارکپوری علیہ رحمۃ اللہ القوی کی پیدائش ۱۳۱۲ھ بمطابق ١٨٩٤ء قصبہ بھوج پور (ضلع مراد آباد، یو پی ہند) میں بروز پیر ہوئی۔ آپ حنفی عالم دین، مفتی اسلام، پیر طریقت، استاذ العلماء اور صاحب تصانیف ہیں۔ ہند کا مشہور الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور (ضلع اعظم گڑھ، یو پی) اور ماہنامہ الاشرفیہ آپ کی کوششوں کا ثمر ہے۔ یکم جمادی الاخری ١٣٩٦ بمطابق ٣١ مئی ١٩٧٦ء رات گیارہ بجکر پچپن منٹ پر وصال فرمایا۔ آخری آرام گاہ الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور کے صحن میں واقع ہے

Hafiz-e-Millat Hadrat Allamah Shah Abdul Aziz Muhaddith Muradabadi Mubarakpuri (Alayhir Rahmah) was born on Monday 1312 Hijri (1894) in the town of Bhojpur (Muradabad District, U.P. India). He is a famous and prominent Hanafi scholar, Mufti of Islam, Religious and Spiritual Guide, Teacher of Teachers, and a celebrated author. India's famous Jamiah Al-Ashrafiyah Mubarakpur (Azamgarh District, U.P.) and the monthly Al-Ashrafia Magazine are the results of his sincere and tireless efforts. He passed away on the 1st Jumad al-Akhirah 1396 Hijri (i.e. 31st May 1976) at 11:55 pm. His resting place is located in the courtyard of Jamia Al-Ashrafiyah Mubarakpur.



سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو سروری قادری رحمة الله تعالى عليه


 

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو سروری قادری رحمة الله تعالى عليه کی ولادت ١٠٣٩ه‍ کو موضع اعوان شور کوٹ ضلع جھنگ پنجاب پاکستان میں ہوئی۔ آپ کا سلسلۂ نسب ٢٩ واسطوں سے سیدنا علی المرتضیٰ کرم الله وجہہ الکریم تک پہنچتا ہے۔ آپ ولی کامل، صوفی شاعر اور اکابر اولیائے پاکستان سے ہیں۔ آپ نے تقریباً ١٤٠ کتب تحریر فرمائیں جبکہ آپ کی نصیحتوں سے بھرپور پنچابی شاعری کو بہت شہرت حاصل ہے۔ آپ نے ٦٣ سال کی عمر میں شبِ جمعہ یکم جمادی الاخری ١١٠٢ھ کو وصال فرمایا۔ مزار مبارک قصبہ دربار سلطان باہو نزد گڑھ مہاراجہ جھنگ پاکستان میں مرجع خاص و عام ہے جہاں ہزاروں عقیدت مند حاضر ہو کر من کی مرادیں پاتے ہیں۔ (تذکرۂ اولیائے پاک و ہند، مناقب سلطانی)

صاحب کتاب الشفاء، قاضی امام ابو الفضل عیاض بن موسی بن عیاض مالکی مغربی علیہ رحمۃ اللہ القوی


 

‎صاحب کتاب الشفاء، قاضی امام ابو الفضل عیاض بن موسی بن عیاض مالکی مغربی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی ولادت مغرب اور موجودہ اسپین کے سرحد علاقے سبتہ یا سیوتا میں ماہ شعبان المعظم 476ھ مطابق 1083ء میں ہوئی۔ آپ مشہور ادیب، مؤرخ، فقیہ، محدث اور عاشق رسول ﷺ ہیں۔ یوں تو آپ کی تصانیف کی تعداد 22 کے قریب کے مگر آپ خصوصاً اپنی مایہ ناز کتاب مستطاب ”الشفاء بتعریف حقوق المصطفی“ کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہوئے۔ اس کتاب کی تقریباً 26 کے قریب شروحات و تلخیصات ہو چکی ہیں۔ علماء فرماتے ہیں کہ جس گھر میں یہ کتاب ہو وہاں جادو کا اثر نہ ہوگا اور اس کا پڑھنے والا بیماریوں، ڈوبنے اور جلنے سے محفوظ رہے گا۔ آپ کا شمار مالکی مذہب کے اساطین اور مراکش کے سات مشہور اقطاب میں ہوتا ہے۔ آپ نے 68 برس کی عمر میں 9 جمادی الاخری 544ھ مطابق 1145ء شب جمعہ کو وصال فرمایا، مزار مبارک مغرب (موروکو) کے شہر مراکش کی فصیل کے اندر ہے۔ (بستان المحدثین، کتاب الشفاء)

صحابیٔ رسول ﷺ، قدیم الاسلام، شہزادۂ صدیق اکبر، حضرت سیدنا عبداللہ بن ابوبکر الصدیق تمیمی قرشی رضی اللہ عنہما


صحابیٔ رسول ﷺ، قدیم الاسلام، شہزادۂ صدیق اکبر، حضرت سیدنا عبداللہ بن ابوبکر الصدیق تمیمی قرشی رضی اللہ عنہما کی ولادت مکۂ مکرمہ میں ہوئی. آپ سیدنا صدیق اکبر کے سب سے بڑے فرزند ہیں، آپ اور حضرت اسما بنت ابوبکر رضی اللہ عنہم ایک ہی والدہ سے تھے. ابتدائے اسلام میں مسلمان ہوئے اور ہجرت مدینہ کا شرف پایا. غزوۂ طائف میں زخمی ہو کر تندرست ہوگئے تھے مگر پھر شوال 11ھ خیلفۂ اول بلا فصل یعنی اپنے والد ماجد سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما کے دور خلافت میں اسی زخم کے کھل جانے پر میں شہید ہو گئے۔ (اسد الغابہ، الاستیعاب، الاصابہ)
 

مجدد وقت، علامة الدهر، وحید العصر، حضرت علامہ نور الدین علی بن سلطان محمد المعروف ملا علی قاری ہروی حنفی مہاجر مکی نقشبندی رحمۃ الله تعالی علیہ


مجدد وقت، علامة الدهر، وحید العصر، حضرت علامہ نور الدین علی بن سلطان محمد المعروف ملا علی قاری ہروی حنفی مہاجر مکی نقشبندی رحمۃ الله تعالی علیہ کی ولادت دسویں صدی ہجری میں ہرات افغانستان میں ہوئی۔ آپ عالم باعمل، صوفی باصفا، فقیہ حنفی، شارح حدیث، بہترین کاتب، محقق، مدقق، اور تقریباً 152 کتب کے مصنف ہیں۔ مرقاۃ شرح مشکوۃ اور منح الروض الازہر آپ کی مشہور تصانیف میں سے ہیں۔ شوال المکرم 1014ھ مکۂ مکرمہ میں وصال فرمایا اور جنت المعلی میں آرام فرما ہوئے۔ (فیض المعین، حدائق الحنفیہ، منح الروض الازہر فی شرح الفقہ الاکبر)
 

امام العدن، قطب ربانی، شمس الشموس، شیخ سید ابو بکر بن عبد اللہ عیدروس باعلوی شاذلی شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ


 

امام العدن، قطب ربانی، شمس الشموس، شیخ سید ابو بکر بن عبد اللہ عیدروس باعلوی شاذلی شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت 851ھ میں تریم (صوبہ حضرموت) یمن میں ہوئی۔ آپ قطب وقت، ولی شہیر، عالم دین، شاعر اسلام، شیخ طریقت، صاحب کرامات اور بانی جامع مسجد عیدروس ہیں۔ آپ کا ”دیوان العدنی“ مشہور و معروف ہے۔ منقول ہے کہ جنوبی عرب علاقوں میں قھوہ (کوفی) کو بھی آپ ہی نے متعرف کروایا۔ 14 شوال 914ھ شب منگل وصال فرمایا۔ مزارشریف جامع مسجد عیدروس (کریتر، یمن) سے متصل شمال میں مرجع خلائق ہے۔ (شذرات الذھب، الأعلام للزركلي، النور السافر عن اخبار قرن العاشر)

ملک الشعراء، طوطیٔ ہند، حضرت ابو الحسن یمین الدین محمود عرف امیر خسرو دہلوی چشتی نظامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ


 ملک الشعراء، طوطیٔ ہند، حضرت ابو الحسن یمین الدین محمود عرف امیر خسرو دہلوی چشتی نظامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت 651ھ یا 653ھ کو اتر پردیش یا دہلی میں ہوئی۔ آپ عربی و فارسی کے مشہور اور قادر العلوم صوفی شاعر، عالم دین، ادیب و خطیب، محبوب مرشد اور مشہور ترین شخصیت کے مالک ہیں۔ آپ نے تقریباً پانچ لاکھ اشعار تحریر فرمائے۔ 18 شوال 725ھ کو دہلی میں وصال فرمایا، مزار شریف خانقاہ نظامیہ خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الہی کے قرب میں مرجع خاص و عام ہے۔ (گلدستۂ اولیاء



King of Poets, Nightingale of India, Shaykh Abul Hasan Ameer Khusrow Dehlavi Chishti Nizami (Alayhir Rahmah) was born in 651 or 653 AH, in Uttar Pradesh or Delhi. He was an acclaimed and seasoned Sufi poet, erudite scholar, eloquent orator, beloved of his Shaykh, and one of the most famous Awliya of India. He contributed over 500,000 stanzas, spanning multiple languages, to the corpus of metaphysical and mystical poetry. He passed away on the 18th of Shawwal, 725 AH, and was laid to rest near the mausoleum of Khwajah Nizamuddin Awliya Mehboob-e-Ilahi in Delhi. [Guldasta-e-Awliya]



خلیفۂ اعلی حضرت، مفتی اعظم پاکستان، سید المحدثین، حضرت علامہ ابو البرکات سید احمد قادری اشرفی رضوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ


 

خلیفۂ اعلی حضرت، مفتی اعظم پاکستان، سید المحدثین، حضرت علامہ ابو البرکات سید احمد قادری اشرفی رضوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ 1319ھ مطابق 1901ء کو محلہ نواب پور الور (راجستھان) ہند میں پیدا ہوئے۔ آپ حضرت سید دیدار علی شاہ الوری کے فرزند، مرید و خلیفہ شاہ علی حسین کچھوچھوی، خلیفۂ اعلی حضرت، تلمیذ صدر الافاضل، خطیب جامع مسجد داتا گنج بخش، استاذ العلماء، شیخ الحدیث، مناظر اسلام، شیخ طریقت، بانی و امیر مرکزی دار العلوم حزب الاحناف اور اکابرین اہل سنت سے تھے۔ 20 شوال 1398ھ مطابق 24 ستمبر 1978ء بروز اتوار شام 4 بجکر 10 منٹ پر لاہور میں وصال فرمایا، مزار مبارک دار العلوم حزب الاحناف داتا دربار مارکیٹ لاہور میں ہے۔ (تاریخ مشائخ قادریہ رضویہ برکاتیہ، تذکرہ خلفائے اعلی حضرت)


Khalifah of AlaHazrat, Grand Mufti of Pakistan, Sayyid al-Muhaddithin, Allamah Abu al-Barakaat Sayyid Ahmad Qadiri Ashrafi Ridawi (Alayhir Rahmah) was born in 1319 AH (1901 CE) in Nawabpur Alwar (Rajasthan) India. He is the son of Allamah Sayyid Deedar Ali Shah Alwari, murid and caliph of Shah Ali Husayn Kichawchawi, caliph of AlaHazrat, student of Sadr al-Afazil, Khatib of Jamia Masjid Data Ganj Bakhsh, teacher of scholars, Shaykh al-Hadith, debater, spiritual guide, Founder of Markazi Dar al-Uloom Hizb al-Ahnaf, and among the leading figures of Ahl as-Sunnah. He passed away on Sunday, 20 Shawwal 1398 AH i.e. 24th September 1978 at 4:10 pm in Lahore. His mausoleum is located inside the Dar al-Uloom Hizb al-Ahnaf, Daata Darbar Market, Lahore. [Tarikh Mashaikh Qadiriyah Razawiyah Barakatiyah, Tazkirah Khulafa-e-AlaHazrat]

امام القراء، حضرت سیدنا ابو عمرو عثمان دانی مغربی مالکی رحمۃ اللہ تعالی علیہ


 

امام القراء، حضرت سیدنا ابو عمرو عثمان دانی مغربی مالکی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت قرطبہ اندلس (موجودہ اسپین) میں 371ھ میں ہوئی۔ آپ قرآن کریم کی روایات، تفسیر، معانی، طرق، علم اعراب اور ضبط کے امام، بارہ سے زائد کتب کے مصنف اور مستجاب الدعوات تھے۔ پاک وہند اور ترکی میں رائج مصحف شریف (قران مجید) کا رسم عثمانی آپ کے منہج کے مطابق ہے۔ 15 شوال المکرم 444ھ میں وصال فرمایا، دانیہ اندلس کے قبرستان میں آرام فرما ہوئے۔ (سیر اعلام النبلاء)


Imam al-Qurra’, Sayyiduna Abu ‘Amr ‘Usman Daani Maghribi Maliki (Alayhir Rahmah) was born in 371 AH in Córdoba Andalusia (currently Spain). He was the Imam of Quranic narrations, exegesis, connotation, chain of narrators, diacritization, discipline, and rulings. He was a Mustajab ad-Da’waat i.e. his prayers and supplications were answered, and also the author of more than a dozen books. The ‘Usmani style of the blessed Mushaf (Holy Qur’an) commonly recited in Pakistan, India, and Turkey is according to his method. He passed away on the 15th of Shawwal 444 AH and was laid to rest in the graveyard of Dénia, Andalusia. [Siyar A’laam an-Nubala]

حافظ الحدیث، صاحب سنن ابو داؤد، حضرت سیدنا سلیمان بن اشعث سجستانی بصری المعروف امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ


 

حافظ الحدیث، صاحب سنن ابو داؤد، حضرت سیدنا سلیمان بن اشعث سجستانی بصری المعروف امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ 202ھ کو سجستان (صوبہ سیستان) ایران میں پیدا ہوئے۔ آپ محدث، متقی، زاہد اور استاذ المحدثین تھے۔ علم حدیث کی طلب میں حجاز، عراق، خراسان، جزیرہ وغیرہ کا سفر فرمایا اور ہزاروں محدثین سے حدیث کی سماعت و روایت فرمائی۔ عمر بھر حدیث کا درس دیتے رہے اسی لیے آپ کے شاگردوں کی تعداد اس قدر زیادہ ہے کہ ان کا شمار انتہائی دشوار ہے۔ صحاح ستہ میں شامل سنن ابی داؤد آپ کی عالمگیر شہرت کا سبب ہے جس میں آپ نے پانچ لاکھ احادیث مبارکہ میں سے چن کر صرف چار ہزار آٹھ سو احادیث جمع فرمائیں ہیں۔ 16 شوال 275ھ کو بصرہ عراق میں وصال فرمایا۔ آپ کو امیر المؤمنین فی الحدیث حضرت سیدنا سفیان ثوری رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ (سیر اعلام النبلاء، بستان المحدثین، تھذیب التھذیب، تذکرۃ الحفاظ)


Hafiz al-Hadith, Compiler of Sunan Abu Dawud, Sayyiduna Sulayman bin Ash’ath Sijistani Basri alias Imam Abu Dawud (Alayhir Rahmah) was born in 202 AH in Sijistan (Sistan Province) Iran. He was a hadith master, pious practicing scholar, devout worshiper, and teacher of hadith experts. He traveled to Hijaz, Iraq, Khorasan, etc. in search of knowledge of hadith and listened to and narrated hadith from thousands of hadith masters. He taught Hadith all his life, that is why the number of his students is so high that it is very difficult to count them. His compilation Sunan Abi Dawud, included in the Six Canonical Books of Hadith, is the reason for his universal fame, in which he selected and compiled only 4,800 hadiths from a collection of 500,000 hadiths. He passed away on 16 Shawwal 275 AH in Basra, Iraq, and was laid to rest beside Ameer al-Mu’mineen fil Hadith Sayyiduna Sufiyan al-Thawri (Alayhir Rahmah). [Siyar A'lam an-Nubala, Bustan al-Muhaddithin, Tahdhib al-Tahdhib]

حافظ الحدیث، امام فن رجال، علامہ حافظ شمس الدین ابو عبد اللہ محمد بن احمد ذہبی ترکمانی دمشقی شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ


 

مؤرخ اسلام، حافظ الحدیث، امام فن رجال، علامہ حافظ شمس الدین ابو عبد اللہ محمد بن احمد ذہبی ترکمانی دمشقی شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت 3 ربیع الآخر 673ھ كفر بطنا نزد دمشق، شام میں ہوئی۔ آپ حافظ قرآن، قرأت سبع کے قاری، عظیم محدث، بہترین مؤرخ، مدرس، محقق، مصنف کتب کثیرہ اور استاذ المحدثین ہیں۔ تاریخ الاسلام، سیر اعلام النبلاء، تذکرۃ الحفاظ، میزان الاعتدال، وغیرہ آپ کی مشہور تصانیف میں سے ہیں۔ تحصیل علم و زیارت مشائخ کے لیے حلب، حماۃ، طرابلس، کرک، نابلس، رملہ، بیت المقدس، حجاز مقدس اور مصر کا سفر کیا۔ آپ کے اساتذہ کی تعداد ایک ہزار سے زائد بتائی جاتی ہے۔ 3 ذی القعدہ 748ھ اتور اور پیر کی درمیانی شب وصال فرمایا، تدفین باب صغیر دمشق شام میں ہوئی۔ (الوافی بالوفيات، تاریخ الاسلام، طبقات الشافعیہ)


The Islamic historian, Hafiz al-Hadith, Imam of Asma’ al-Rijal, Allamah Hafiz Shamsuddin Abu Abdullah Muhammad bin Ahmad Zahabi Turkmani Dimashqi Shafi’i (Alayhir Rahmah) was born on 3rd Rabi’ al-Akhir 673 AH, in Kafr Batna near Damascus, Syria. He was a Haafiz of Quran, Qaari of the seven methods of Qira’at, great hadith expert, illustrious historian, researcher, author of numerous books, and teacher of hadith masters. Tarikh al-Islam, Siyar A’laam an-Nubala, Tazkirat al-Huffaz, Meezan al-I’tidaal, etc. are among his famous books. He traveled to Aleppo, Hama, Tripoli, Karak, Nabulus, Ramla, Jerusalem, Hijaz, and Egypt to acquire sacred knowledge and to visit the erudite scholars. The number of his teachers is said to be more than one thousand. He passed away on 3rd Dhu al-Qa’dah 748 Hijri, the night between Sunday and Monday, and was laid to rest in Bab Saghir Cemetery in Damascus, Syria. [Al-Wafi bi al-Wafiyat, Tarikh al-Islam, Tabaqat al-Shafi’iyah]

شیخ الاسلام، قطب الدعوۃ والارشاد، علامہ سید عبد اللہ بن علوی بن محمد الحداد حسنی اشعری شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ



شیخ الاسلام، قطب الدعوۃ والارشاد، علامہ سید عبد اللہ بن علوی بن محمد الحداد حسنی اشعری شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت 5 صفر 1044ھ جمعرات کی شب سُبیر نزد تریم یمن میں ہوئی. آپ حافظ قرآن، جید عالم دین، فقیہ شافعی، صاحب دیوان عربی شاعر، سلسلہ باعلوی کے شیخ طریقت اور دو درجن کے قریب کتب کے مصنف ہیں۔ رسالہ آداب سلوك المريد اور عقيدة أهل الإسلام آپ کی یادگار تصانیف ہیں۔ عرب اور خصوصاً یمن میں آپ کو بارہویں صدی کے مجدد بھی کہا جاتا ہے۔ 7 ذی القعدہ 1132ھ منگل کی شب حاوی تریم میں وصال فرمایا اور تریم کے مقبرہ زنبل میں آرام فرما ہوئے۔ (تاريخ الشعراء الحضرميين، الإمام الحداد مجدد القرن الثاني عشر الهجري)


Shaykh al-Islam, Qutb al-Da’wah wa al-Irshad, Allamah Sayyid Abdullah ibn Alawi ibn Muhammad al-Hadad Hasani Ash’ari Shafi’i (Alayhir Rahmah) was born on Thursday night, 5th Safar 1044 AH in al-Subayr, a village on the outskirts of Tarim in Hadramawt, Yemen. He was a Hafiz of the Holy Qur’an, great Islamic scholar, Shafi’i jurist, acclaimed and published Arabic poet, spiritual guide of the Ba’alawi Sufi order, and author of about two dozen books. Risalah Adaab Sulook al-Murid and Aqidah Ahl al-Islam are his memorable works. In Arabia, especially in Yemen, he is regarded as the Mujaddid (revivalist) of the twelfth century. He passed away on Tuesday night, 7th Dhu al-Qa’dah 1132 AH in al-Hawi, Tarim, and was laid to rest at Zanbal cemetery in Tarim. [Tarikh al-Shu’ara al-Hadramiyyin, Al-Imam al-Haddad]

 

Sunday, May 29, 2022

شیخ الشافعیہ، حضرت امام ابو القاسم عبد الکریم رافعی قزوینی شافعی رحمت اللہ تعالی علیہ


شیخ الاسلام، شیخ الشافعیہ، حضرت امام ابو القاسم عبد الکریم رافعی قزوینی شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 555ھ کو قزوین، اصفہان، ایران کے علمی گھرانے میں ہوئی۔ آپ کا سلسلۂ نسب حضرت سیدنا رافع بن خدیج انصاری رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔ آپ مفسر قرآن، محدث جلیل، مجتہد فقہ شافعى، امام دین و ملت، حجۃ الاسلام، عالم العجم و العرب، مؤرخ جلیل، شاعر اسلام، صاحب کرامات اور کئی کتب کے مصنف تھے۔ فتح العزيز شرح الوجيز اور المحرر في فقه الإمام الشافعي آپ کی مشہور کتب ہیں۔ فقہ شافعی میں امام ابو القاسم رافعی اور امام نووی کو شیخین کہا جاتا ہے۔ ذو القعدہ 623ھ کو قزوین، اصفہان، ایران میں وصال فرمایا۔ (طبقات الشافعية، سیر اعلام النبلاء، الأعلام للزركلي، معجم المؤلفين)


Shaykh al-Islam, Shaykh al-Shafi’iyah, Imam Abu al-Qasim Abdul Karim Rafi’i Qazvini Shafi’i (Alayhir Rahmah) was born in a scholastic family in 555 AH in Qazvin, Isfahan, Iran. His lineage goes back to the noble companion, Rafi’ bin Khadij Ansari (RadiyAllahu Anhu). He was a Qur’anic exegete, great hadith master, mujtahid in shafi’i jurisprudence, authority in religion, teacher of Arab and non-Arab scholars, Islamic poet, and author of many books. Fath al-Aziz Sharh al-Wajiz and Al-Muharrar fi Fiqh al-Imam Ash-Shafi’i are his famous works. In Shafi’i jurisprudence, himself and Imam Nawawi are termed as ‘‘Shaykain’’. He passed away in Dhu al-Qa’dah 623 AH in Qazvin, Isfahan, Iran. [Tabaqat al-Shafi’iyah, Siyar A’laam an-Nubala, Al-A’laam li az-Zirikli, Mu’jam al-Muallifin]

 

عارف باللہ، حضرت شیخ سید ابو الحسن علی بن عبداللہ الحسنی قادری شاذلی مالکی رحمۃ اللہ تعالی علیہ


 


بانی سلسلۂ شاذلیہ، عارف باللہ، حضرت شیخ سید ابو الحسن علی بن عبداللہ الحسنی قادری شاذلی مالکی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت 591ھ غمارہ، شمالی مراکش میں ہوئی۔ آپ ولی کامل، مصنف کتب اور شیخ المشائخ ہیں۔ آپ کی کتاب ”دعائے حزب البحر“ بہت مشہور ہے۔ اوائل ذیقعدہ 656ھ میں سفر حج کے دوران وادی حمیثرہ (صحرائے عیذاب) مصر میں وصال فرمایا جہاں آپ کا مزار مرجع خلائق ہے۔ (الاعلام للزرکلی، الوافی بالوفیات)


Founder of the Shadhili Sufi order, Shaykh Abu al-Hasan Sayyid Ali bin Abdullah al-Hasani Qadiri Shadhili Maliki (Alayhir Rahmah) was born in 591 AH in Ghomara, near Ceuta in the north of Morocco. He was an acclaimed wali, author of books, and shaykh of Sufi gnostics. His book ‘‘Dua Hizb al-Bahr’’ is quite famous. During the early days of Dhu al-Qa’dah 656 AH, shortly after he departed for the Hajj pilgrimage, he passed away in the valley of Humaythara, the eastern desert of Egypt where his majestic mausoleum is frequently visited by the devotees. [Al-A’laam liz Zirikli, Al-Wafi bi al-Wafiyat]

ولی کامل حضرت حفظ سیدمحمدعبداللہ شاہ دیوان حضوری قادری رحمۃ اللہ تعالی علیہ


 

ولی کامل، حضرت حافظ سید محمد عبد اللہ شاہ دیوان حضوری قادری رحمۃ اللہ تعالی علیہ 29 شعبان المعظم 974ھ بمطابق 1566ء اکبر آباد تخت پڑی تحصیل و ضلع راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ آپ مادر زاد ولی، مرید و خلیفۂ حضرت شاہ محمد بندگی بخاری دہلوی، حافظ قرآن، عالم دین، سلسلہ قادریہ کے عظیم بزرگ، بانی جامعۂ قادریہ اور مبلغ اسلام تھے۔ آپ نے بارہ برس حضور غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی کے مزار پرانوار پر قیام کیا جہاں ہر شب ایک قرآن پاک ختم فرماتے اور دن کے وقت مسجد میں جھاڑو لگاتے اور پانی بھرتے۔ 20 شوال المکرم 1072ھ مطابق 1661ء کو وصال فرمایا۔ مزار شریف دیوان حضوری (سابقہ پشندور، تحصیل سوہاوہ) ضلع جہلم میں مرکز انوار و تجلیات ہے۔ (گلدستۂ اولیاء)


Paramount Wali, Hafiz Sayyid Muhammad Abdullah Shah Dewan Huzoori Qadiri (Alayhir Rahmah) was born on 29 Shaban al-Ma’azzam 974 AH (1566 CE) in Akbarabad Takht Padi Tehsil and District Rawalpindi. He was a born Wali, the disciple and caliph of Shah Muhammad Bandagi Bukhari Dehlavi, Hafiz of the Holy Qur’an, pious practicing scholar, great Sufi master of Qadiriyah spiritual order, the founder of Jami’ah Qadiriyah, and a preacher of Islam. He stayed at the mausoleum of Ghous al-A’zam Shaykh Abdul Qadir Jilani for twelve years, where he would recite one Holy Qur’an every night and sweep the mosque during the day and fill the water. He passed away on the 20th of Shawwal 1072 AH (1661 CE). His blessed mausoleum in Dewan-e-Huzoori (formerly Pashandur, Sohawa Tehsil) Jhelum District is a center of spiritual blessings and enlightenment. [Guldasta-e-Awliya]

سید الطائفہ، طاؤس العلماء، لسان القوم، حضرت سیدنا ابوالقاسم جنید بن محمد بن جنید نہاوندی بغدادی شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ


 


سید الطائفہ، طاؤس العلماء، لسان القوم، حضرت سیدنا ابو القاسم جنید بن محمد بن جنید نہاوندی بغدادی شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت تیسری صدی ہجری کے شروع میں بغداد شریف میں ہوئی۔ آپ عالم باعمل، صوفی باصفا اور سلسلہ عالیہ قادریہ برکاتیہ رضویہ کے گیارہویں شیخ طریقت ہیں۔ تیس سال تک آپ کا معمول تھا کہ عشاء کی نماز کے بعد کھڑے ہو کر صبح تک ذکر اللہ کرتے اور اسی وضو سے صبح کی نماز ادا کرتے اور بیس برس تک کبھی آپ سے تکبیر اولیٰ فوت نہ ہوئی۔ شوال 297ھ یا 298ھ جمعہ و ہفتہ کی درمیانی شب وصال فرمایا۔ ساٹھ ہزار لوگ آپ کی نماز جنازہ میں شریک ہوئے اور سیدنا سَری سقطی کے قرب میں مدفون ہوئے۔ مزار شریف بغداد شریف کے علاقے شونیزیہ میں مرجع خلائق ہے۔ (تاریخ بغداد، تاریخ الاسلام، صفة الصفوۃ، مرآۃ الزمان، طبقات الشافعیة، وفیات الاعیان)


Sayyid al-Ta’ifah, Ta’us al-Ulama, Lisan al-Qawm, Sayyiduna Abu al-Qasim Junaid bin Muhammad bin Junaid Nahawandi Baghdadi Shafi’i (Alayhir Rahmah) was born in the beginning of the third century AH in Baghdad. He was a pious practicing scholar, great Sufi gnostic, and the 11th Imam and Shaykh Qadiriyah Barakatiyah Ridawiyah spiritual sufi order. For 30 years, it was his routine to perform qiyam after Isha prayers and do dhikr till morning and perform the morning prayers with the same ablution. And for 20 years he never missed the first takbir. He left this mundane world in Shawwal 297 AH or 298 AH, the night between Friday and Saturday. 60,000 people attended his funeral prayers. He was laid to rest near Sayyiduna al-Imam Sari al-Saqati. His blessed resting place in the Shuniziyah area of ​​Baghdad is visited frequently by the devotees. [Tarikh Baghdad, Tarikh al-Islam, Sifat al-Safwah, Mirat al-Zaman, Tabaqat al-Shafi’iyyah, Wafiyat al-A’yaan]

مجازِ طریقت، حضرت مولانا الحاج عبد الستار اسماعیل کاٹھیاواری قادری رضوی رحمۃ الله تعالی علیہ


مجازِ طریقت، حضرت مولانا الحاج عبد الستار اسماعیل کاٹھیاواری قادری رضوی رحمۃ الله تعالی علیہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ الله تعالی علیہ کے خلیفہ اور جماعت رضائے مصطفیٰ ﷺ کے ستونوں میں سے تھے۔ رنگون کے امیر ترین لوگوں میں سے ہونے کے باوجود آپ کو دین کے لیے بہت زیادہ فکر تھی۔ چنانچہ قرآن و سنت کی تعلیمات یعنی مسلکِ اعلیٰ حضرت کو عام کرنے کے لیے آپ افریقہ گئے اور تبلیغی کاوشوں میں سرگرم عمل رہے۔ 19 شوال 1354ھ مطابق 1936ء کو وصال فرمایا۔ 122 کییٹ سٹریٹ، ایسٹکورٹ، جنوبی افریقہ میں آپ کا مزار پرانوار ابتداً نامعلوم تھا مگر پھر 1968ء میں علامہ ابراہیم خوشتر صدیقی قادری رضوی علیہ الرحمہ جنوبی افریقہ تشریف لائے اور اس کی نشاندہی فرمائی۔ (تجلیاتِ خلفائے اعلیٰ حضرت)


Majaaz-e-Tariqat, Hadrat Mawlana Al-Haaj Abdus Sattar Ismail Kathiawari Qadiri Ridawi (Alayhir Rahmah) was a Khalifa of AlaHazrat Imam Ahmad Rida Khan Qadiri (Alayhir Rahmah) and was one of the pillars of Jama’at Raza-e-Mustafa ﷺ. He had a great sense of concern for the religion even though he was from amongst the wealthy of Rangoon. Thus, he went to Africa to spread the teachings of the Quran and Sunnah i.e. Maslak-e-AlaHazrat and did a lot of propagation. He passed away on the 19th of Shawwal 1354 AH (1936 CE). His blessed resting place at 122 Keate St, Estcourt, South Africa was unknown until Allamah Ibrahim Khushtar Siddiqui Qadiri Ridawi (Alayhir Rahmah) came to South Africa in 1968 and identified it. [Tajalliyat-e-Khulafa-e-AlaHazrat]

 

مرید و خلیفہ صدر الشریعہ، فقیہ اعظم ہند، شارح بخاری، حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی رضی اللہ عنہ

  مرید و خلیفہ صدر الشریعہ، فقیہ اعظم ہند، شارح بخاری، حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی رضی اللہ عنہ کی ولادت 11 شعبان 1339ھ کو قصبہ گھو...