Saturday, June 25, 2022

حضرت پیر سید جماعت علی شاہ نقشبندی محدث علی پوری رحمۃ اللہ تعالی علیہ


امیر ملت، ابو العرب، حضرت پیر سید جماعت علی شاہ نقشبندی محدث علی پوری رحمۃ اللہ تعالی علیہ 1257ھ مطابق 1841ء میں علی پور سیداں، پنجاب میں پیدا ہوئے۔ آپ نجیب الطرفین سید، حافظ قرآن، عالم باعمل، شیخ المشائخ، مسلمانان برعظیم کے متحرک راہنما اور مرجع خاص و عام تھے۔ ایک زمانہ آپ سے مستفیض ہوا، ہزارہا ہندو اور عیسائی آپ کے دست حق پرست پر مشرف بہ اسلام ہوئے۔ آپ نے کم و بیش 50 مرتبہ حج و دربار رسالت ﷺ میں حاضری کا شرف پایا، سینکڑوں مساجد تعمیر کرائیں اور متععد مدارس قائم کیے۔ 26 ذی القعدہ 1370ھ مطابق 30 اگست 1951ء شب جمعہ وصال فرمایا، مزار مبارک علی پور سیداں، ضلع نارووال، پنچاب، پاکستان میں مرجع خلائق ہے۔ (تذکرہ اکابر اہل سنت، امیر ملت)


Ameer-e-Millat, Abu al-Arab, Pir Sayyid Jama’at Ali Shah Naqshbandi Muhaddith Alipuri (Alayhir Rahmah) was born in 1257 AH (1841 CE) in Alipur Syedan, Punjab. He was a Najib al-Tarafayn Sayyid, Hafiz of the Holy Qur'an, pious practicing scholar, shaykh of shaykhs, a dynamic leader of the Muslims, and a beloved personality of the people of sorts. An era benefitted from him. Thousands of Hindus and Christians converted to Islam at his blessed hands. He had the privilege of performing Hajj and visiting the August court of the beloved Prophet ﷺ more or less 50 times, built hundreds of mosques, and established numerous Islamic education centers. He passed away on Friday night, 26 Dhu al-Qa’dah 1370 AH (i.e. 30 August 1951). [Tazkirah Akabir-e-AhleSunnat, Ameer-e-Millat]

https://www.instagram.com/p/CfOPw--vI5n/?igshid=MDJmNzVkMjY=

 

Friday, June 24, 2022

الشيخ الصالح الفاضل، سیدنا شیخ ابو المفاخر محمد بن عبد الواحد الکبیر کتانی حسنی مالکی رحمۃ اللہ تعالی علیہ


 

الشريف الولي الواصل، الشيخ الصالح الفاضل، سیدنا شیخ ابو المفاخر محمد بن عبد الواحد الکبیر کتانی حسنی مالکی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت 1234ھ مطابق 1819ء میں ہوئی۔ آپ عالم دین، ولی کامل، عارف کبیر، متعدد سلاسل کے مجاز اور بانی زاویۂ کتانیہ کبری (نزد قطانین، فاس) ہیں۔ تصانیف میں سفرنامہ حج بنام ’’رحلة الفتح المبين في وقائع الحج وزيارة النبي الأمين“ یادگار ہے۔ خلیفۂ اعلی حضرت علامہ محمد عبد الحی کتانی محدث فاس آپ کے پوتے ہیں۔ 26 ذو القعدہ 1289ھ مطابق 1872ء شب اتوار وصال فرمایا۔ فاس (مراکش) میں مزار پرانوار معروف ہے۔ (اتحاف المطالع، شجرۃ النور الزکیہ، فھرس الفھارس، تذکرہ سنوسی مشائخ)


Al-Sharif al-Wali al-Wasil, Shaykh al-Salih al-Fadil, Sayyiduna Shaykh Abu al-Mafakhir Muhammad bin Abd al-Wahid al-Kabeer Kittani Hasani Maliki (Alayhir Rahmah) was born in 1234 AH (1819 CE). He was a prominent Islamic scholar, great wali, noble gnostic, shaykh of various Sufi orders, and the founder of Zawiyah Kittaniyah Kubra (near Qatanin, Fes). Among his books, the travelogue of Hajj called “Rihlat al-Fath al-Mubeen fi Waqa’i al-Hajj wa Ziyrat al-Nabiyy al-Ameen” is memorable. Caliph of AlaHazrat, Allamah Muhammad Abdul Hayyi al-Kittani Muhaddith of Fes is his grandson. He passed away on Sunday night, 26 Dhu al-Qa’dah 1289 AH (1872 CE). His blessed resting place is famous in Fes, Morocco. [Ithaaf Al-Matali’, Shajarat al-Noor al-Zakiyyah, Fahras al-Faharis, Tazkirah Sanusi Mashaikh]

Wednesday, June 22, 2022

حضرت سید ابو الحسن ابراہیم بن عبداللہ محض حسنی رضی اللہ عنہ


 

شہید باخمری، برادر نفس الزکیہ، حضرت سید ابو الحسن ابراہیم بن عبداللہ محض حسنی رضی اللہ عنہ کی ولادت 97ھ میں ہوئی۔ آپ عالم دین، راوی حدیث، شاعر اسلام، عابد و زاہد، شجاع و بہادر اور خاندان سادات کے جلیل القدر فرزند تھے۔ آپ کے معتقدین و معاونین میں امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں۔ 25 ذو القعدہ 145ھ بروز پیر شریف کوفہ اور واسط کے درمیانی علاقے باخمری میں شہید ہوئے اور یہیں آپ مزار شریف مرکز انوار و تجلیات ہے۔ (مقاتل الطالبین، الكامل فی التاریخ، الاعلام للزركلی)


Martyr of Bakhamra, Brother of Nafs al-Zakiyyah, Sayyid Abu al-Hasan Ibrahim bin Abdullah Mahd Hasani (RadiyAllahu Anhu) was born in 97 AH. He was a religious scholar, narrator of Hadith, poet of Islam, pious ascetic, devout worshiper, brave, gallant, and the glorious prince of Ahl Bayt. His followers and supporters include Imam-e-Azam Abu Hanifah (RadiyAllahu Anhu). He was martyred on Monday, 25th Dhu al-Qa’dah 145 AH in the Bakhmara area between Kufa and Wasit and this is where his blessed mausoleum is the center of divine blessings and spiritual upliftment. [Maqatil al-Talibin, Al-Kamil fi al-Tarikh, Al-A’laam li az-Zirikli]

Monday, June 20, 2022

حضرت سیدنا ابو المغیث حسین بن منصور حلاج رحمۃ اللہ تعالی علیہ


مشہور ولی کامل، زاہد کبیر، حضرت سیدنا ابو المغیث حسین بن منصور حلاج رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت قصبہ طور بیضاء صوبہ فارس ایران میں ہوئی۔ آپ خواجہ عمرو بن عثمان مکی کے مرید، امام جنید بغدادی کے صحبت یافتہ، عالم دین، صاحب دیوان، صاحب ریاضات و کرامات، اور اکابر اہل حال اولیائے کرام سے ہیں۔ آپ نے اپنے جسم کو ٹخنوں سے گھٹنوں تک تیرہ جگہوں سے بیڑیوں میں جکڑ رکھا تھا اور اسی حالت میں وہ دن رات میں ایک ہزار رکعت نفل ادا کرتے تھے۔ 23 ذی القعدہ 309ھ بروز منگل بغداد عراق میں جام شہات نوش فرمایا۔ مزار شریف الکرامہ ہسپتال بغداد کے عقب میں واقع ہے۔ (تذکرۃ الاولیاء، مرآۃ الاسرار، مکاشفۃ القلوب، وفیات الاعیان)


The famous Wali, Paramount Ascetic, Sayyiduna Abu al-Mughis Husayn bin Mansoor al-Hallaj (Alayhir Rahmah) was born in Toor Bayda, Persia, Iran. He was a disciple of Khwajah Amr bin Usman Makki, companion of Imam Junayd al-Baghdadi, pious practicing scholar, poet, man of marvels, and among the prominent and highly acclaimed Awliya of his time. He kept his body in shackles from thirteen places from ankle to knee and in this condition, he would perform 1000 rak'ats of Nafl prayers a day and night. He was martyred on Tuesday, 23 Dhu al-Qa’dah 309 AH in Baghdad, Iraq. His blessed mausoleum is located behind Al-Karamah Hospital Baghdad. [Tazkirat al-Awliya, Mirat al-Asrar, Mukashafat al-Quloob, Wafiyat al-A’yaan]

 

شہنشاہِ سخن مولانا حسن رضا حسن بریلوی قادری مارہروی رحمۃ اللہ علیہ


شہنشاہِ سخن مولانا حسن رضا حسن بریلوی قادری مارہروی -رحمۃ اللہ علیہ- ۴؍ ربیع الاوّل ۱۲۷۶ھ، مطابق یکم اکتوبر ۱۸۵۹ء کو مادر گیتی پر جلوہ گر ہوئے۔ آپ کے آباؤاَجداد دہلی کے رہنے والے تھے ۔ جد امجد محمد سعادت علی خان صاحب کی حیات تک آپ کا خاندان دہلی میں ہی رہا؛ مگر اُن کے وصال کے بعد مستقل بریلی میں سکونت اختیار کر لی۔ آپ کا خاندان علم و فضل میں معروف تھا۔ نسل د ر نسل فتوی نویسی کا سلسلہ آپ کے خاندان میں جاری ہوا، اور الحمد للہ اس وقت تک جاری ہے، اور یقینا بریلی اہل سنت کا مرکز ہے۔


آپ کے والد ماجد مولانا نقی علی خان -علیہ رحمۃ الحنان- کی ذات ستودہ صفات عوام تو عوام علما کا بھی مرجع تھی۔ اور دور دراز سے لوگ مسائل شرعیہ میں اُن سے رجوع کرتے۔ یوں آپ نے ایک علمی گھرانے میں آنکھ کھولی اور علم و فضل میں یکتاے روزگار ہستیوں کی آغوش میں پرورش پائی۔ نثر نگاری ہویا شعرو سخن، ہر میدان میں آپ کا خاندان ایک امتیازی حیثیت کا حامل تھا۔


اِبتدائی تعلیم اپنے والد ماجد اور برادرِ اکبر سیدی اعلٰی حضرت -علیہما الرحمہ- سے حاصل کی۔ نعت گوئی کی تعلیم بھی اپنے برادرِ اکبر سے پائی، اور کلام مجاز میں بلبل ہندوستان حضرت داغ دہلوی -رحمۃ اللہ علیہ- سے شرف تلمذ حاصل کیا۔ داغ دہلوی کے قیام رامپور کے دوران آپ اُن کے پاس حاضر ہوا کرتے۔ داغ دہلوی کو آپ سے خاص اُنس تھا اور اکثر پیارے شاگرد کہہ کر خطاب کیا کرتے۔ اس کا اظہار مولانا حسن رضا خود اپنے ایک شعر میں یوں کرتے ہیں :

پیارے شاگر د تھا لقب اپنا ٭ کس سے اس پیار کا مزا کہیے


کلام مجاز میں آپ کا دیوان’ ثمر فصاحت‘ آپ کی غیر معمولی ذہانت و ذکاوت ، مزاج کی شوخی و شگفتگی اور زندہ دلی کا بین ثبوت ہے۔ ثمر فصاحت کا تاریخی مادہاے نام تو ۱۳۱۹ ھ ہے؛ مگر اس کی طباعت اولی ۱۳۲۷ ھ میں ہوئی۔ رنگ مجازی میں آپ نے فارسی میں بھی کلام فرمایا، جس کا نام ’قند پارسی‘ـ ہے۔ نہایت مختصر ہونے کی وجہ سے اس کو ثمر فصاحت کے ساتھ ہی ملحق کر دیا گیاہے۔


۱۳۲۵ھ میں مع عیال حج سے شرف یابی کے بعد آپ نے کلام مجاز ترک کر دیا، اور محض نعت اور منقبت کو اپنا مشغلہ بنا لیا؛ چنانچہ نعت میں ایک مکمل دیوان ترتیب دیا جس کا نام ’ذوق نعت‘ رکھا۔ ذوق نعت کی طباعت اولی پر خود سیدی اعلی حضرت -علیہ الرحمہ- نے قطعاتِ تاریخ طباعت تحریر فرمائے۔

 

Sunday, June 19, 2022

شیخ المشائخ حضرت شاہ مخدوم غلام محی الدین صدیقی قصوری دائم الحضوری رحمۃ اللہ تعالی علیہ


 

شیخ المشائخ حضرت شاہ مخدوم غلام محی الدین صدیقی قصوری دائم الحضوری رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت 1202ھ کو قصور، پنجاب میں ہوئی۔ آپ عالم دین، متبع سنت، سلسلۂ نقشبندیہ و قادریہ سے مستفیض، سلسلۂ نقشبندیہ کی ترویج و اشاعت میں فعال اور صاحب دیوان شاعر تھے۔ خانقاہ للہ شریف جہلم اور بیر بل شریف سرگودھا آپ کے فیضان سے قائم ہوئیں۔ 22 ذو القعدہ 1270ھ کو مثنوی مولانا روم کا درس فرمایا اور اس میں اولیاء کی موت اور حیات کا بہت تذکرہ فرمایا اور بعد درس وصال فرما گئے۔ مزار شریف کوٹ غلام محمد، قصور پنجاب پاکستان میں مرجع خلائق ہے۔ (تذکرہ مشائخ نقشبند)


Shaykh-ul-Mashaikh, Shah Makhdoom Ghulam Muhyuddin Kasuri Da’im-ul-Huzoori (Alayhir Rahmah) was born in 1202 AH in Kasur, Punjab. Known for uncompromising adherence to the Sunnah, he emerged as a prominent figurehead of the Naqshbandi and Qadiri orders. Along with scholarly and spiritual pursuits, he was an avid poet whose anthology continues to be studied. The spiritual centers of Khanqah Lillah Sharif Jhelum and Birbal Sharif Sargodha were established through his blessings. He passed away on 22 Dhul Qa’idah 1270 AH while giving the discourse on the death and life of Awliya from Mawlana Rum’s Masnavi. His blessed mausoleum is located in Kot Ghulam Muhammad, Kasur, Punjab, Pakistan. [Tarikh Mashaikh Naqshband]

استاذامام بخاری امام مسلم و امام ابو داود، حافظ الحدیث، حضرت امام حافظ ابو زکریا یحیی بن مَعِین بغدادی رحمۃ اللہ تعالی علیہ

 


استاذ امام بخاری امام مسلم و امام ابو داود، حافظ الحدیث، حضرت امام حافظ ابو زکریا یحیی بن مَعِین بغدادی رحمۃ اللہ تعالی علیہ 158ھ بمطابق 775ء کو انبار کے قریب نقیا نامی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ آپ جلیل القدر عالم دین، شیخ المحدثین اور اپنے ہاتھ سے 10 لاکھ احادیث مبارکہ تحریر کرنے کا اعزاز پانے والے تھے۔ بڑے بڑے علماء و محدثین نے آپ کو جرح و تعدیل کا امام، اسماء الرجال کا سب سے بڑا عالم، اور صحت حدیث کو پرکھنے کا بادشاہ کہا۔ علم دین کی طلب میں آپ نے اپنا کل سرمایہ تقریباً 10 لاکھ 50 ہزار درہم صرف کر ڈالا یہاں تک کہ جوتا تک نہ خرید پائے اور ننگے پیر چلتے تھے۔ ”تاریخ ابن معین“ آپ کی یادگار کتاب ہے۔ 23 ذو القعدہ 233ھ کو مدینۂ منورہ میں وصال فرمایا اور جس تخت مبارک پر حضور نبی مکرم نورِ مجسم ﷺ کو غسل دیا گیا تھا اسی پر آپ کو غسل دیا گیا۔ (تاریخ دمشق، تھذیب التھذیب، بستان المحدثین، وفیات الاعیان، الرحلۃ فی طلب الحدیث)


Teacher of Imam Bukhari Imam Muslim and Imam Abu Dawood, Hafiz al-Hadith, Imam Abu Zakariyya Yahya bin Ma’een Baghdadi (Alayhir Rahmah) was born in 158 AH (775 CE) in a village called Niqya near Anbar. He was an esteemed scholar, teacher of Hadith masters, and the one who had the honor of writing a million hadiths with his own hands. Great scholars and hadith experts have regarded him as the Imam of Jarh and Ta’deel, the greatest scholar of Asma’ ar-Rijal, and the king of examining the authenticity of hadith. In pursuit of sacred knowledge, he spent his entire wealth of about 1 million and 50 thousand dirhams so much so that he could not even buy a shoe and walked barefoot. ‘‘Tarikh Ibn Ma’een’’ is his memorable book. He passed away on 23 Dhu al-Qa’dah 233 AH in Madinah Munawwarah and was bathed on the blessed board on which the Beloved Prophet ﷺ was bathed. [Tarikh Dimashq, Tahzib at-Tahzib, Bustan al-Muhaddithin, Wafyat al-A’yaan, Ar-Rihla fi Talab al-Hadith]

مرید و خلیفہ صدر الشریعہ، فقیہ اعظم ہند، شارح بخاری، حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی رضی اللہ عنہ

  مرید و خلیفہ صدر الشریعہ، فقیہ اعظم ہند، شارح بخاری، حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی رضی اللہ عنہ کی ولادت 11 شعبان 1339ھ کو قصبہ گھو...