Wednesday, June 22, 2022

حضرت سید ابو الحسن ابراہیم بن عبداللہ محض حسنی رضی اللہ عنہ


 

شہید باخمری، برادر نفس الزکیہ، حضرت سید ابو الحسن ابراہیم بن عبداللہ محض حسنی رضی اللہ عنہ کی ولادت 97ھ میں ہوئی۔ آپ عالم دین، راوی حدیث، شاعر اسلام، عابد و زاہد، شجاع و بہادر اور خاندان سادات کے جلیل القدر فرزند تھے۔ آپ کے معتقدین و معاونین میں امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں۔ 25 ذو القعدہ 145ھ بروز پیر شریف کوفہ اور واسط کے درمیانی علاقے باخمری میں شہید ہوئے اور یہیں آپ مزار شریف مرکز انوار و تجلیات ہے۔ (مقاتل الطالبین، الكامل فی التاریخ، الاعلام للزركلی)


Martyr of Bakhamra, Brother of Nafs al-Zakiyyah, Sayyid Abu al-Hasan Ibrahim bin Abdullah Mahd Hasani (RadiyAllahu Anhu) was born in 97 AH. He was a religious scholar, narrator of Hadith, poet of Islam, pious ascetic, devout worshiper, brave, gallant, and the glorious prince of Ahl Bayt. His followers and supporters include Imam-e-Azam Abu Hanifah (RadiyAllahu Anhu). He was martyred on Monday, 25th Dhu al-Qa’dah 145 AH in the Bakhmara area between Kufa and Wasit and this is where his blessed mausoleum is the center of divine blessings and spiritual upliftment. [Maqatil al-Talibin, Al-Kamil fi al-Tarikh, Al-A’laam li az-Zirikli]

Monday, June 20, 2022

حضرت سیدنا ابو المغیث حسین بن منصور حلاج رحمۃ اللہ تعالی علیہ


مشہور ولی کامل، زاہد کبیر، حضرت سیدنا ابو المغیث حسین بن منصور حلاج رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت قصبہ طور بیضاء صوبہ فارس ایران میں ہوئی۔ آپ خواجہ عمرو بن عثمان مکی کے مرید، امام جنید بغدادی کے صحبت یافتہ، عالم دین، صاحب دیوان، صاحب ریاضات و کرامات، اور اکابر اہل حال اولیائے کرام سے ہیں۔ آپ نے اپنے جسم کو ٹخنوں سے گھٹنوں تک تیرہ جگہوں سے بیڑیوں میں جکڑ رکھا تھا اور اسی حالت میں وہ دن رات میں ایک ہزار رکعت نفل ادا کرتے تھے۔ 23 ذی القعدہ 309ھ بروز منگل بغداد عراق میں جام شہات نوش فرمایا۔ مزار شریف الکرامہ ہسپتال بغداد کے عقب میں واقع ہے۔ (تذکرۃ الاولیاء، مرآۃ الاسرار، مکاشفۃ القلوب، وفیات الاعیان)


The famous Wali, Paramount Ascetic, Sayyiduna Abu al-Mughis Husayn bin Mansoor al-Hallaj (Alayhir Rahmah) was born in Toor Bayda, Persia, Iran. He was a disciple of Khwajah Amr bin Usman Makki, companion of Imam Junayd al-Baghdadi, pious practicing scholar, poet, man of marvels, and among the prominent and highly acclaimed Awliya of his time. He kept his body in shackles from thirteen places from ankle to knee and in this condition, he would perform 1000 rak'ats of Nafl prayers a day and night. He was martyred on Tuesday, 23 Dhu al-Qa’dah 309 AH in Baghdad, Iraq. His blessed mausoleum is located behind Al-Karamah Hospital Baghdad. [Tazkirat al-Awliya, Mirat al-Asrar, Mukashafat al-Quloob, Wafiyat al-A’yaan]

 

شہنشاہِ سخن مولانا حسن رضا حسن بریلوی قادری مارہروی رحمۃ اللہ علیہ


شہنشاہِ سخن مولانا حسن رضا حسن بریلوی قادری مارہروی -رحمۃ اللہ علیہ- ۴؍ ربیع الاوّل ۱۲۷۶ھ، مطابق یکم اکتوبر ۱۸۵۹ء کو مادر گیتی پر جلوہ گر ہوئے۔ آپ کے آباؤاَجداد دہلی کے رہنے والے تھے ۔ جد امجد محمد سعادت علی خان صاحب کی حیات تک آپ کا خاندان دہلی میں ہی رہا؛ مگر اُن کے وصال کے بعد مستقل بریلی میں سکونت اختیار کر لی۔ آپ کا خاندان علم و فضل میں معروف تھا۔ نسل د ر نسل فتوی نویسی کا سلسلہ آپ کے خاندان میں جاری ہوا، اور الحمد للہ اس وقت تک جاری ہے، اور یقینا بریلی اہل سنت کا مرکز ہے۔


آپ کے والد ماجد مولانا نقی علی خان -علیہ رحمۃ الحنان- کی ذات ستودہ صفات عوام تو عوام علما کا بھی مرجع تھی۔ اور دور دراز سے لوگ مسائل شرعیہ میں اُن سے رجوع کرتے۔ یوں آپ نے ایک علمی گھرانے میں آنکھ کھولی اور علم و فضل میں یکتاے روزگار ہستیوں کی آغوش میں پرورش پائی۔ نثر نگاری ہویا شعرو سخن، ہر میدان میں آپ کا خاندان ایک امتیازی حیثیت کا حامل تھا۔


اِبتدائی تعلیم اپنے والد ماجد اور برادرِ اکبر سیدی اعلٰی حضرت -علیہما الرحمہ- سے حاصل کی۔ نعت گوئی کی تعلیم بھی اپنے برادرِ اکبر سے پائی، اور کلام مجاز میں بلبل ہندوستان حضرت داغ دہلوی -رحمۃ اللہ علیہ- سے شرف تلمذ حاصل کیا۔ داغ دہلوی کے قیام رامپور کے دوران آپ اُن کے پاس حاضر ہوا کرتے۔ داغ دہلوی کو آپ سے خاص اُنس تھا اور اکثر پیارے شاگرد کہہ کر خطاب کیا کرتے۔ اس کا اظہار مولانا حسن رضا خود اپنے ایک شعر میں یوں کرتے ہیں :

پیارے شاگر د تھا لقب اپنا ٭ کس سے اس پیار کا مزا کہیے


کلام مجاز میں آپ کا دیوان’ ثمر فصاحت‘ آپ کی غیر معمولی ذہانت و ذکاوت ، مزاج کی شوخی و شگفتگی اور زندہ دلی کا بین ثبوت ہے۔ ثمر فصاحت کا تاریخی مادہاے نام تو ۱۳۱۹ ھ ہے؛ مگر اس کی طباعت اولی ۱۳۲۷ ھ میں ہوئی۔ رنگ مجازی میں آپ نے فارسی میں بھی کلام فرمایا، جس کا نام ’قند پارسی‘ـ ہے۔ نہایت مختصر ہونے کی وجہ سے اس کو ثمر فصاحت کے ساتھ ہی ملحق کر دیا گیاہے۔


۱۳۲۵ھ میں مع عیال حج سے شرف یابی کے بعد آپ نے کلام مجاز ترک کر دیا، اور محض نعت اور منقبت کو اپنا مشغلہ بنا لیا؛ چنانچہ نعت میں ایک مکمل دیوان ترتیب دیا جس کا نام ’ذوق نعت‘ رکھا۔ ذوق نعت کی طباعت اولی پر خود سیدی اعلی حضرت -علیہ الرحمہ- نے قطعاتِ تاریخ طباعت تحریر فرمائے۔

 

Sunday, June 19, 2022

شیخ المشائخ حضرت شاہ مخدوم غلام محی الدین صدیقی قصوری دائم الحضوری رحمۃ اللہ تعالی علیہ


 

شیخ المشائخ حضرت شاہ مخدوم غلام محی الدین صدیقی قصوری دائم الحضوری رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت 1202ھ کو قصور، پنجاب میں ہوئی۔ آپ عالم دین، متبع سنت، سلسلۂ نقشبندیہ و قادریہ سے مستفیض، سلسلۂ نقشبندیہ کی ترویج و اشاعت میں فعال اور صاحب دیوان شاعر تھے۔ خانقاہ للہ شریف جہلم اور بیر بل شریف سرگودھا آپ کے فیضان سے قائم ہوئیں۔ 22 ذو القعدہ 1270ھ کو مثنوی مولانا روم کا درس فرمایا اور اس میں اولیاء کی موت اور حیات کا بہت تذکرہ فرمایا اور بعد درس وصال فرما گئے۔ مزار شریف کوٹ غلام محمد، قصور پنجاب پاکستان میں مرجع خلائق ہے۔ (تذکرہ مشائخ نقشبند)


Shaykh-ul-Mashaikh, Shah Makhdoom Ghulam Muhyuddin Kasuri Da’im-ul-Huzoori (Alayhir Rahmah) was born in 1202 AH in Kasur, Punjab. Known for uncompromising adherence to the Sunnah, he emerged as a prominent figurehead of the Naqshbandi and Qadiri orders. Along with scholarly and spiritual pursuits, he was an avid poet whose anthology continues to be studied. The spiritual centers of Khanqah Lillah Sharif Jhelum and Birbal Sharif Sargodha were established through his blessings. He passed away on 22 Dhul Qa’idah 1270 AH while giving the discourse on the death and life of Awliya from Mawlana Rum’s Masnavi. His blessed mausoleum is located in Kot Ghulam Muhammad, Kasur, Punjab, Pakistan. [Tarikh Mashaikh Naqshband]

استاذامام بخاری امام مسلم و امام ابو داود، حافظ الحدیث، حضرت امام حافظ ابو زکریا یحیی بن مَعِین بغدادی رحمۃ اللہ تعالی علیہ

 


استاذ امام بخاری امام مسلم و امام ابو داود، حافظ الحدیث، حضرت امام حافظ ابو زکریا یحیی بن مَعِین بغدادی رحمۃ اللہ تعالی علیہ 158ھ بمطابق 775ء کو انبار کے قریب نقیا نامی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ آپ جلیل القدر عالم دین، شیخ المحدثین اور اپنے ہاتھ سے 10 لاکھ احادیث مبارکہ تحریر کرنے کا اعزاز پانے والے تھے۔ بڑے بڑے علماء و محدثین نے آپ کو جرح و تعدیل کا امام، اسماء الرجال کا سب سے بڑا عالم، اور صحت حدیث کو پرکھنے کا بادشاہ کہا۔ علم دین کی طلب میں آپ نے اپنا کل سرمایہ تقریباً 10 لاکھ 50 ہزار درہم صرف کر ڈالا یہاں تک کہ جوتا تک نہ خرید پائے اور ننگے پیر چلتے تھے۔ ”تاریخ ابن معین“ آپ کی یادگار کتاب ہے۔ 23 ذو القعدہ 233ھ کو مدینۂ منورہ میں وصال فرمایا اور جس تخت مبارک پر حضور نبی مکرم نورِ مجسم ﷺ کو غسل دیا گیا تھا اسی پر آپ کو غسل دیا گیا۔ (تاریخ دمشق، تھذیب التھذیب، بستان المحدثین، وفیات الاعیان، الرحلۃ فی طلب الحدیث)


Teacher of Imam Bukhari Imam Muslim and Imam Abu Dawood, Hafiz al-Hadith, Imam Abu Zakariyya Yahya bin Ma’een Baghdadi (Alayhir Rahmah) was born in 158 AH (775 CE) in a village called Niqya near Anbar. He was an esteemed scholar, teacher of Hadith masters, and the one who had the honor of writing a million hadiths with his own hands. Great scholars and hadith experts have regarded him as the Imam of Jarh and Ta’deel, the greatest scholar of Asma’ ar-Rijal, and the king of examining the authenticity of hadith. In pursuit of sacred knowledge, he spent his entire wealth of about 1 million and 50 thousand dirhams so much so that he could not even buy a shoe and walked barefoot. ‘‘Tarikh Ibn Ma’een’’ is his memorable book. He passed away on 23 Dhu al-Qa’dah 233 AH in Madinah Munawwarah and was bathed on the blessed board on which the Beloved Prophet ﷺ was bathed. [Tarikh Dimashq, Tahzib at-Tahzib, Bustan al-Muhaddithin, Wafyat al-A’yaan, Ar-Rihla fi Talab al-Hadith]

Thursday, June 16, 2022

سید عبد الرزاق گیلانی المعروف بابا شاہ چراغ قادری لاہوری رحمۃ اللہ علیہ


حضرت سید عبد الرزاق گیلانی المعروف بابا شاہ چراغ قادری لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت اوچ شریف، ضلع بہاولپور میں ہوئی۔ آپ خاندان غوث الاعظم کے چشم و چراغ، اپنے والد ماجد سید الوہاب گیلانی کے مرید و خلیفہ، عالم و فاضل، عابد و زاہد، ولی کامل، سلسلہ قادریہ کے عظیم المرتبت شیخ طریقت اورمرجع خاص و عام تھے۔ شاہ جہان بادشاہ آپ کے عقیدت مند اور خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے۔ 22 ذو القعدہ 1068ھ کو لاہور میں وفات پائی۔ لاہور ہائیکورٹ کے قریب آپ کا عالیشان مزار شریف دعاؤں کی قبولیت کا مقام ہے۔ (خزینۃ الاصفیاء)


Shaykh Sayyid Abd ar-Razzaq Gilani alias Baba Shah Charag Qadiri Lahori (Alayhir Rahmah) was born in Uch Sharif, Bahawalpur District. He was a beacon of light from the exalted family Sayyiduna Ghous al-Azam family, disciple and caliph of his father Sayyid Abd al-Wahhab Gilani, pious practicing scholar, pious ascetic, devout worshiper, celebrated wali, and a high ranking shaykh of the Qadiriyah Sufi order. King Shahjahan was his devotee and used to be at his service. He passed away on 22nd Dhu al-Qa’dah 1068 AH. His magnificent mausoleum near the Lahore High Court is the place of acceptance of prayers. [Khazinat al-Asfiyah]

 

Wednesday, June 15, 2022

خضر راہ ہدایت، حضرت علامہ میر سید فضل الله شاہ ترمذی کالپوی رحمۃ الله تعالی علیہ


 

سید السالکین، خضر راہ ہدایت، حضرت علامہ میر سید فضل الله شاہ ترمذی کالپوی رحمۃ الله تعالی علیہ دسویں صدی ہجری میں پیدا ہوئے۔ آپ حضرت شاہ برکت الله مارہروی کے پیر و مرشد، ولی کامل، عالم باعمل، درگاہ محمدیہ کالپی شریف کے سجادہ نشین اور سلسلۂ عالیہ قادریہ برکاتیہ رضویہ کے بتیسویں امام و شیخ طریقت ہیں۔ زہد و تقوی، عبادت و ریاضت میں ممتاز اور مشائخین عصر میں معزز و مقبول تھے۔ 14 ذی القعدہ 1111ھ بروز جمعرات وصال فرمایا، مزار مبارک اپنے جد امجد کے مزار سے مغرب کی جانب کالپی شریف (ضلع جالون، یو پی) ہندستان میں ہے۔ (تذکرہ مشائخ قادریہ برکاتیہ رضویہ)


Sayyid as-Salikeen, Khizr-e Raah-e Hidayat, Allamah Meer Sayyid Fazlullah Shah Tirmizi Kalpwi (Alayhir Rahmah) was born in the 10th Century AH. He was the Spiritual Guide and Master of Shah Barkatullah Marehrawi, perfect Wali Allah, pious practicing scholar, trustee of Dargah Muhammadiyah Kalpi Sharif, and 32nd Imam and Shaykh of Qadiriyah Barakatiyah Ridawiyah Sufi Order. He was an example of his pious predecessors, in knowledge, piety, wisdom, and understanding. All the great Ulama and Masha’ikh of the time held him in great esteem. He passed away on Thursday, the 14th of Dhu al-Qa’dah 1111 AH. His blessed resting place is on the western side of the mausoleum of his forefathers in Kalpi Sharif, Jalaun, U.P. India. [Tazkirah Mashaikh Qadiriyah Baraktiyah Razawiyah]

Friday, June 10, 2022

امام المحدثین، حضرت امام ابو الحسن علی بن عمر بغدادی دارقطنی رحمۃ اللہ تعالی علیہ


 

شیخ الاسلام، امام المحدثین، حضرت امام ابو الحسن علی بن عمر بغدادی دارقطنی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت 306ھ میں محلہ دار قطن بغداد عراق میں ہوئی۔ آپ ماہر علم حديث، علل حديث، اسمائے رجال حديث، عالم باعمل، مفسر، قاری، فقیہ، نحو و تجوید کے ماہر، نہایت ذہین اور ”سنن دارقطنی“ سمیت 80 کتب کے مصنف ہیں۔ امام حاکم نیشاپوری، ابو حامد اسفرائنی، اور ابو نعیم اصبہانی جیسے بڑے محدثین کا شمار بھی آپ کے تلامذہ میں ہوتا ہے۔ 8 ذی القعدہ 385ھ کو وصال فرمایا، فقیہ ابو حامد اسفرائنی نے نماز جنازہ پڑھائی اور سیدنا معروف کرخی کے مزار سے متصل قبرستان باب حرب بغداد میں سپرد خاک کیے گئے۔ (سیر اعلام النبلاء، تذکرۃ الحفاظ، بستان المحدثین)


Shaykh al-Islam, Imam al-Muhaddithin, Imam Abu al-Hasan Ali ibn Umar Daraqutni (Alayhir Rahmah) was born in 306 AH in the town of Dar Qutn, Baghdad, Iraq. He was an expert in the science of Hadith; Ilal al-Hadith; and Asma ar-Rijaal, a pious practicing scholar, Quranic exegetist, an expert in quranic connotation and diacritization, very intelligent, and author of Sunan Daraqutni and 80 other books. Great hadith masters like Imam Hakim, Al-Isfarani, and Abu Nu’aym are among his students. He passed away on 8th Dhu al-Qa’dah 385 AH, Faqih Abu Hamid al-Isfaraini led his funeral prayer and was laid to rest in the graveyard of Sayyiduna Ma’roof Karkhi, Bab Harb, Baghdad. [Siyar A’laam an-Nubala, Tazkirat al-Huffaz, Bustan al-Muhaddithin]

Wednesday, June 8, 2022

، جگر گوشۂ مفسر اعظم، شیخ الاسلام والمسلمین، تاج الشریعہ، مفتی محمد اختر رضا خان حنفی قادری نوری رضوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ


 

وارث علوم اعلی حضرت، نبیرۂ حجۃ الاسلام، جانشین مفتیٔ اعظم، جگر گوشۂ مفسر اعظم، شیخ الاسلام والمسلمین، تاج الشریعہ، مفتی محمد اختر رضا خان حنفی قادری نوری رضوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت 26 محرم الحرام 1362ھ مطابق 2 فروری 1943ء بروز منگل بریلی شریف میں ہوئی۔ آپ بلاشبہ اپنے عہد کے سب سے زیادہ قد آور، علمی، متقی، محترم، مکرم، محبوب اور بااثر شخصیات میں سے تھے۔ آپ بہت بڑے عاشق رسول ﷺ، متحبر عالم، عظیم محقق، ماہر فقیہ، مایہ ناز شاعر، بہترین مصنف، محتاط مترجم، تقویٰ و استقامت کے پیکر، یادگار اسلاف، حق و صداقت کے علم بردار، صاحب بصارت، عظیم روحانی شخصیت، اور جامع فضائل و کمالات تھے۔ 7 ذی القعدہ 1439ھ بمطابق 20 جولائی 2018 بروز جمعہ مغرب کے لیے وضو فرمایا اور جب اذان شروع ہوئی تو ’’یا اللہ! یا اللہ! یا اللہ! اللہ اکبر! اللہ اکبر!‘‘ کی صدا بلند فرمائی اور ان آخری الفاظ کے ساتھ وصال باکمال فرمایا۔ آپ کے جنازے میں لاکھوں لاکھ مریدین، محبین، معتقدین، متوسلین نے شرکت کی۔ ازہری گیسٹ ہاؤس، بریلی شریف، ہندستان میں آپ کا مزار پرانوار نزول رحمت اور دعاؤں کی قبولیت کا مقام ہے۔

Saturday, June 4, 2022

مرید و خلیفۂ اعلی حضرت، حضرت علامہ مولانا الحاج محمد عمر بن ابوبکر قادری برکاتی رضوی کھتری رحمۃ اللہ تعالی علیہ



مرید و خلیفۂ اعلی حضرت، حضرت علامہ مولانا الحاج محمد عمر بن ابوبکر قادری برکاتی رضوی کھتری رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت 1291ھ مطابق 1876ء میں پور بندر، صوبہ گجرات، ہندستان کے ایک علمی اور دینی گھرانے میں ہوئی۔ آپ عالم باعمل، مایہ ناز فقیہ، عاشق اعلی حضرت اور سرزمین گجرات میں مسلک اعلی حضرت کے ترجمان تھے۔ شیر بیشہ اہلسنت حضرت علامہ حشمت علی خان صاحب لکھنوی پیلی بھیتی علیہ الرحمہ جیسی عظیم ہستی کو بھی آپ سے شرف خلافت حاصل تھا۔ 5 ذی القعدہ 1384ھ مطابق 8 مارچ 1965ء بروز پیر شریف 3 بجکر 30 منٹ پر وصال فرمایا۔ مزار پور بندر، گجرات، ہندستان میں ہے۔ (تجلیات خلفائے اعلی حضرت)


Disciple and Khalifah of AlaHazrat, Allamah Mawlana Al-Haaj Muhammad Umar bin Abu Bakr Qadiri Barakati Ridawi Khatri (Alayhir Rahmah) was born in 1291 AH i.e. 1876 CE in a scholastic and religious family in Porbandar, Gujarat Province, India. He was a pious practicing scholar, eminent jurist, an ardent devotee of AlaHazrat, and spokesman and representative of Maslak-e-AlaHazrat in the land of Gujarat. A great personality like Allamah Hashmat Ali Khan Lucknowi Pilibhiti (Alayhir Rahmah) also had the honor of Khilafah from him. He passed away on Monday, 5 Dhu al-Qa’dah 1384 AH i.e. 8th March 1965 CE at 03:30. His blessed resting place is in Porbandar, Gujarat, India. [Tajalliyaat-e Khulafa-e AlaHazrat]

حضرت شاہ عبد الکریم بلڑی وارو رحمۃ اللہ تعالی علیہ


 

سلطان العارفین، حضرت شاہ عبد الکریم بلڑی وارو رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت 20 شعبان 944ھ کو مٹیاری میں ہوئی۔ آپ کا تعلق باب الاسلام سندھ کے متعلوی (مٹیاری) سادات گھرانے سے تھا۔ آپ کا سلسلۂ نسب حضرت سیدنا امام موسی کاظم سے جا ملتا ہے۔ آپ شاہ عبداللطیف بھٹائی رحمۃ اللہ علیہ کے جد امجد، معروف صوفی بزرگ، سندھی زبان کے شاعر، نہایت محنتی، اور منکسر المزاج تھے۔ مسجد میں اذان دینا، صفائی کرنا اور پانی بھر کر رکھنا آپ کے معمولات میں شامل تھا۔ 7 ذی القعدہ 1032ھ بروز اتوار وصال فرمایا۔ شاہ عبد اللطیف بھٹائی نے 1154ھ میں آپ کا مزار تعمیر کروایا جس کے لیے اینٹیں ملتان سے لائی گئیں تھی۔ مزار موضع سعید پور (بلڑی)، تحصیل شاہ عبد الکریم، ضلع ٹنڈو محمد خان، سندھ، پاکستان میں واقع ہے۔ (بیان العارفین، تذکرہ اولیائے سندھ)


Sultan al-Aarifeen, Sayyiduna Shah Abdul Kareem Bulri Waro (Alayhir Rahmah) was born on 20 Shaban 944 AH in Matiari. He belonged to a Mut’alawi (Matiari) Sayyid family of Bab al-Islam Sindh. His blessed lineage goes back to Sayyiduna Imam Moosa Kazim (RadiyAllahu Anhu). He was the great grandfather of Shah Abdul Latif Bhittai, a renowned Sufi saint, a great poet of the Sindhi language, very hardworking, and humble personality. Calling out Adhan, cleaning the mosque, and bringing water for mosque was part of his routine. He passed away on Sunday, 7th Dhu al-Qa’dah 1032 AH. Shah Abdul Latif Bhittai had his mausoleum built in 1154 AH for which bricks were brought from Multan. His blessed mausoleum is situated in Saeedpur (Bulri), Tahseel Shah Abdul Kareem, district Tando Muhammad Khan, Sindh, Pakistan. [Bayan al-Arifeen, Tazkirah Awliya-e-Sindh]

استاذ العلماء، حضرت علامہ مولانا محمد عمر اچھروی صدیقی رحمۃ اللہ تعالی علیہ


 

مناظر اہل سنت، استاذ العلماء، حضرت علامہ مولانا محمد عمر اچھروی صدیقی رحمۃ اللہ تعالی علیہ 1319ھ کو قصبہ شیروکانہ نزد قصور پنجاب پاکستان میں پیدا ہوئے۔ آپ مرید حضرت میاں شیر محمد شرقپوری، سید محمد اسماعیل شاہ المعروف حضرت کرمانوالہ کے فیض یافتہ، جامع منقول و معقول، مایہ ناز عالم دین، عوامی خطیب، مناظر اعظم، 150 یا اس سے زائد مناظروں کے فاتح، اور مصنف کتب کثیرہ ہیں۔ آپ کی تصانیف میں سے مقیاس حنفیت، مقیاس وہابیت، مقیاس نور، اور مقیاس الصلاۃ وغیرہ کے کئی ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔ 16 سال جامع مسجد داتا گنج بخش میں خطابت فرمائی، عوامی انداز میں ایسی علمی گفتگو فرماتے کہ عوام و علماء یکساں مستفیض ہوتے۔ ہر روز قرآن مجید کے پانچ پاروں کی تلاوت اور شب بیدار ی آپ کے معمولات میں سے تھے۔ 2 ذو القعدہ 1391ھ کو وصال فرمایا، تدفین اچھرہ لاہور میں ہوئی۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت وجماعت لاہور، مولانا محمد عمر اچھروی کی علمی خدمات، تذکرہ اکابر اہل سنت)


The acclaimed advocate of the Sunni creed, Allamah Muhammad Umar Ichrawi (Alayhir Rahmah) was born in 1319 AH in Sheru Kana near Kasur, Punjab, Pakistan. He was a disciple of Miyan Sher Muhammad Sharqpuri, companion of Hazrat Karmanwala, exceptional scholar, public speaker, victorious debater in 150 or more debates, and prolific author. Numerous editions of his books: Miqyas-e-Hanafiyyat, Miqyas-e-Wahabiyat, Miqyas-e-Noor, Miqyas al-Salat, etc. have been published. For 16 years, he served as the head preacher of Jam’i Masjid Data Ganj Bakhsh. Especially renowned for his articulate and thought-provoking sermons, he was able to effectively teach complex matters to the public. Reciting 5 Chapters of the Holy Quran and standing in worship at night was his daily routine. He passed away on the 2nd Dhu al-Qa’dah 1391 AH and was laid to rest in Ichhra, Lahore. [Tazkirah Ulama-e-AhleSunnat wa Jama’at Lahore, Mawlana Muhammad Umar Icharwi ki Ilmi Khidmat, Tazkirah Akabir-e-AhleSunnat]

بانی سلسلۂ جہانگیریہ، شیخ العارفین، علامہ سید محمد مخلص الرحمن جہانگیر شاہ قادری چشتی ابو العلائی حنفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ


 

بانی سلسلۂ جہانگیریہ، شیخ العارفین، علامہ سید محمد مخلص الرحمن جہانگیر شاہ قادری چشتی ابو العلائی حنفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت 1229ھ بروز پیر شریف مرزاکھیل (صوبہ چٹاگانگ) بنگلہ دیش میں ہوئی۔ آپ نہایت حسین و جمیل، ولی کامل، عالم دین، مشہور شیخ طریقت، مصنف کتب، تہجد گزار، ذہین، ذکی، اور قوی الحفظ تھے۔ آپ کی بدولت کثیر التعداد بندگان خدا کو ہدایت نصیب ہوئی اور وہ فتنہ و گمراہی سے محفوظ رہے۔ 12 ذو القعدہ 1302ھ بروز پیر شریف بعد نماز فجر وصال فرمایا، مزار مبارک مرزاکھیل، چٹاگانگ، بنگلہ دیش میں مرجع خلائق ہے۔ (سیرت جہانگیری، معارف رضا)


Founder of the Jahangiriyah spiritual order, Shaykh-ul-‘Aarifeen, Allamah Sayyid Muhammad Mukhlis-ur-Rahman Jahangir Shah Qadiri Chishti Abul ‘Ulaee Hanafi (Alayhir Rahmah) was born in 1229 AH on Monday in Mirzakhil, Chittagong, Bangladesh. He was extremely beautiful, an accomplished Wali, Islamic scholar, spiritual guide, author of books, devout worshiper, very intelligent, and wise. Due to him, many servants of Allah received guidance and were protected from heresy. He passed away on Monday, the 12th  of Dhu al-Qa’dah 1302 AH after Fajr prayers. His blessed mausoleum in Mirzakhil, Chittagong, Bangladesh is visited frequently by the devotees. [Seerat-e-Jahangiri, Ma’arif-e-Raza]

امام المیراث، سراج الفقہاء، شیخ القرآن و الحدیث، حضرت علامہ حافظ سراج احمد چشتی محدث خانپوری رحمۃ اللہ تعالی علیہ


 

امام المیراث، سراج الفقہاء، شیخ القرآن و الحدیث، حضرت علامہ حافظ سراج احمد چشتی محدث خانپوری رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت 14 ذو الحجہ 1303ھ بروز بدھ موضع مکھن بیلہ، تحصیل خانپور، ضلع رحیم یارخان، جنوبی پنجاب، پاکستان میں ہوئی۔ آپ علامۃ الدہر، علوم و فنون بالخصوص علم میراث کے ماہر، مفتی اسلام، استاذ العلماء اور اکابرین اہل سنت سے ہیں۔ تصانیف میں کئی کتب پر حواشی اور”سراج الفتاوی“ شامل ہیں۔ آپ نے تقریباً 70 سال علوم دینیہ کا درس دیا اور کثیر مشتاقان علم کو فیضیاب کیا۔ 5 ذی القعدہ 1392ھ مطابق 12 دسمبر 1972ء بروز منگل شب 11 بجے وصال فرمایا۔ مزار شریف جٹ کی بستی قبرستان، خانپور میں مرکز انوار و تجلیات ہے۔ (تذکرہ اکابر اہل سنت، نور نور چہرے، سوانح سراج الفقہاء)


Imam al-Mirath, Siraj al-Fuqaha, Shaykh al-Quran wa al-Hadith, Allamah Hafiz Siraaj Ahmad Chishti Muhaddith Khanpuri (Alayhir Rahmah) was born on 14 Dhu al-Hijjah 1303 AH in the village of Makkhan Belah, Tehsil Khanpur, District Rahim Yar Khan, South Punjab, Pakistan. He was great Islamic scholar, expert in various arts and sciences especially in the field of inheritance, Mufti of Islam, teacher of scholars, and among the leaders of the Ahl as-Sunnah. Siraj-ul-Fatawa and explanatory notes on various books are among his authored books. He taught religious sciences for almost 70 years and imparted the sacred knowledge to many aspirants. He passed away on Tuesday night, 5th Dhu al-Qa’dah 1391 AH (i.e. 12 December 1972 CE) at 11:00 pm, and was laid to rest in Jatki Basti Cemetery, Khanpur. [Tazkirah Akabir Ahl-e-Sunnat, Noor Noor Chehray, Sawanih Siraj al-Fuqaha]

عارف باللہ، مرشد خلائق، باباجی سرکار، حضرت خواجہ محمد قاسم صادق موہڑوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ


 

عارف باللہ، مرشد خلائق، باباجی سرکار، حضرت خواجہ محمد قاسم صادق موہڑوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت تقریبا 1242ھ میں ہوئی۔ آپ عالم دین، مدرس، عابد، زاہد، غریب پرور، اور سلسلۂ نقشبندیہ کے عظیم شیخ طریقت تھے۔ سینکڑوں ہندو اور سکھ آپ سے متأثر ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ آپ کے خلفاء نے گھمکول شریف، نیریاں شریف، کوٹ گلہ شریف سمیت کئی خانقاہیں قائم فرمائیں۔ 13 ذو القعدہ 1362ھ بروز جمعۃ المبارکہ 120 سال کی عمر میں وصال فرمایا۔ آپ کا مزار پرانوار ”موہڑہ شریف“ نزد کوہ مری، ضلع راولپنڈی، پاکستان میں مرجع خلائق ہے۔ (تذکرۂ اکابراہل سنت)


Arif Billah, Murshid-e-Khalaiq, Baba Jee Sarkar, Sayyiduna Khwajah Muhammad Qasim Sadiq Moharvi (Alayhir Rahmah) was born in around 1242 AH. He was an Islamic scholar, teacher, pious ascetic, devout worshiper, and a great spiritual guide of the Naqshbandiyyah Sufi order. Being impressed with him, thousands of Hindus and Sikh embraced Islam. His successors established various Khanqahs at various places including in Ghamkol Sharif, Nerian Sharif and Kot Gulla Sharif. He passed away on Friday, 13th Dhu al-Qa’dah 1362 AH. His blessed mausoleum is a focal point for the visitors in “Mohra Shareef” near mount Murree in Rawalpindi district, Pakistan. [Tazkirah Akabir-e-AhleSunnat]

فیض العارفین، حضرت علامہ مولانا شاہ غلام آسی پیا حسنی جہانگیری رحمۃ اللہ تعالی علیہ


 

فیض العارفین، حضرت علامہ مولانا شاہ غلام آسی پیا حسنی جہانگیری رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت سید پورہ، ضلع بلیا، مشرقی یو پی، ہند میں 1917ء میں ہوئی۔ آپ فاضل مدرسہ مظہر الاسلام بریلی شریف، شیخ الحدیث و بانی مدرسہ شمس العلوم ناگپور، خلیفۂ قطب مدینہ و مفتی اعظم ہند و خواجہ حسن شاہ جہانگیری، اور نعت گو شاعر تھے۔ حضرت حجۃ الاسلام، محدث اعظم پاکستان اور مفتی اعظم علہیم الرحمہ جیسے عظیم علماء و اساتذہ سے اکتساب فیض کیا۔ 9 ذو القعدہ 1424ھ بمطابق 13 جنوری 2003ء بروز پیر شریف وصال فرمایا۔ مزار پرانوار مدھ پور شریف اترالہ، ضلع بلرامپور، یو پی، ہندستان میں ہے۔ (معارف رضا، سالنامہ 2006ء)


Fayz-ul-‘Aarifeen, Allamah Mawlana Shah Ghulam Aasi Piya Hasani Jahangiri (Alayhir Rahmah) was born in Saidpur, district Ballia, Eastern U.P., India in 1917 CE. He became a scholar from the Madrasah Mazhar al-Islam Bareilly Sharif. He was a Shaykh al-Hadith and founder of the Madrasah Shams-ul-‘Uloom Nagpur, the spiritual successor of Qutb-e-Madinah, Mufti-e-A’zam Hind and Khwajah Hasan Shah Jahangiri, and an excellent Na’at poet. He studied and gained blessings from prominent scholars and teachers like Hujjat-ul-Islam,  Muhaddis-e-Azam Pakistan, and Mufti-e-Azam (Alayhim ar-Rahmah). He passed away on 9th Dhu al-Qa’dah 1424 AH i.e. 13 January 2003 CE. His blessed resting place is situated in Madhpur Sharif, Utraula, district Balrampur, U.P., India. [Ma’arif-e-Raza, Salnamah 2006]

استاذ العلماء، حضرت علامہ مولانا ابو سعید شاہ احمد صدیقی قادری حنفی المعروف ملا جیون رحمۃ اللہ تعالی علیہ


 

استاذ العلماء، حضرت علامہ مولانا ابو سعید شاہ احمد صدیقی قادری حنفی المعروف ملا جیون رحمۃ اللہ تعالی علیہ 25 شعبان 1037ھ بروز پیر امیٹھی، یو پی، ہند میں پیدا ہوئے۔ آپ عالم با، مفسر قرآن، مفتی اسلام، مصنف اور درسی کتب کے حافظ تھے۔ آپ کی تصنیف التفسيرات الأحمدية في بيان الآيات الشرعية کو عالمگیر شہرت حاصل ہوئی۔ 5 سال حرمین طیبین میں قیام فرمایا اور دنیا بھر سے آنے والے علماء، فضلا اور صوفیائے کرام سے اکتساب فیض کیا۔ آپ کے شاگردوں میں سلطان اورنگزیب عالمگیر علیہ الرحمہ کا نام سرفہرست ہے۔ 9 ذو القعدہ 1130ھ بروز منگل دہلی میں وصال فرمایا اور وہیں مدفون ہوئے۔ پچاس روز بعد آپ کے جسد شریف کو امیٹھی لایا گیا جہاں آپ کا مزار مبارک مرکز انوار و تجلیات ہے۔ (تفسیرات احمدیہ، نور الانوار)


Teacher of Scholars, Allamah Mawlana Abu Saeed Shah Ahmad Siddiqui Qadiri Hanafi alias Mulla Jeewan (Alayhir Rahmah) was born on Monday, 25 Shaban 1047 AH in Amethi, U.P., India. He was a pious practicing scholar, Quranic exegetist, Mufti of Islam, prolific author, and Hafiz of academic books. His exegesis named, ‘‘Al-Tafsirat Al-Ahmadiyah fi Bayan al-Ayat al-Shar’iyah’’ gained worldwide fame. He stayed in the two holy sanctuaries (Haramayn Tayyibain) for five years and gained sacred knowledge from prominent scholars, theologians, and mystics. Sultan Aurangzeb Alamgir (Alayhir Rahmah) is also among his students. He passed away on Tuesday, 9th Dhu al-Qa’dah 1130 in Delhi and was buried there. 50 days later, his blessed body was moved to Amethi where his mausoleum is the source of spiritual upliftment and blessings. [Tafsirat al-Ahmadiyah, Noor al-Anwar]

Thursday, June 2, 2022

شیخ الاسلام، مفتی الثقلین، امام الفروع والاصول، علامۂ وقت، شمس الدین احمد بن سلیمان المعروف ابن کمال پاشا رومی حنفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ


 

شیخ الاسلام، مفتی الثقلین، امام الفروع والاصول، علامۂ وقت، شمس الدین احمد بن سلیمان المعروف ابن کمال پاشا رومی حنفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت دار العلماء طوقات، مضافات سیواس، شمال مشرقی ترکی میں ہوئی۔ آپ حافظ قرآن، عظیم المرتبت عالم دین، عظیم حنفی فقیہ، مفتی و قاضی استنبول، مشہور مؤرخ، بہترین شاعر، اور مختلف علوم و فنون پر ترکی فارسی اور عربی زبانوں میں 300 سے زائد کتب کے مصنف ہیں۔ 8 جلدوں پر مشتمل آپ کے 100 سے زائد رسائل ”مجموع رسائل العلامة ابن كمال باشا“ کے نام سے مطبوع ہیں۔ 2 ذی القعدہ 940ھ بروز جمعۃ المبارکہ وصال فرمایا، مزار شریف دفتردر، ایدرنیکاپی، استنبول (قدیم قسطنطنیہ) ترکی میں ہے۔ (کواکب السائرہ، شذرات الذھب، الطبقات السنیہ)


Shaykh al-Islam, Mufti al-Thaqalayn, Imam al-Furu’ wa al-Usool, Allamah Shamsuddin Ahmad bin Sulayman alias Ibn Kamal Pasha Rumi Hanafi (Alayhir Rahmah) was born in Dar al-Ulama Tokat, Sivas, North East Turkey. He was a Hafiz of the Holy Quran, an illustrious scholar of Islam, great Hanafi jurist, Mufti and Qadi of Istanbul, famous historian, excellent poet, and author of over 300 books in various sciences in Arabic, Persian and Turkish languages. The compilation of more than 100 of his booklets has been published in 8 Volumes titled ‘‘Majmu’ Rasa’il al-Allamah Ibn Kamal Pasha’’. He passed away on Friday, 2nd Dhu al-Qa’dah 940 AH. His blessed resting place is located in Defterdar, Edirnekapi, Istanbul, Turkey. [Al-Kawakib as-Sa’irah, Shadhrat al-Dhahab, Al-Tabaqat al-Saniyyah]

حافظ الحدیث، شیخ الاسلام، امام الائمہ، حضرت سیدنا امام ابو بکر محمد بن اسحاق بن خزیمہ نیشاپوری شافعی علیہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ


حافظ الحدیث، شیخ الاسلام، امام الائمہ، حضرت سیدنا امام ابو بکر محمد بن اسحاق بن خزیمہ نیشاپوری شافعی علیہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت صفر 223ھ کو نیشاپور، ضلع خراسان رضوی، ایران میں ہوئی۔ آپ حافظ قرآن، محدث جلیل، فقیہ شافعی، مجتہد علی الاطلاق، کثیر التصانیف، اور صاحب کرامت بزرگ تھے۔ تحصیل علم کے لیے رے، بغداد، کوفہ، بصرہ، شام، حجاز مقدس، عراق، مصر اور واسط کا سفر کیا۔ ”صحیح ابن خزیمہ“ آپ کا ہی مجموعۂ حدیث ہے۔ 2 ذو القعدہ 311ھ کو وصال فرمایا اور نیشاپور میں واقع اپنے اپنے مکان ہی میں سپرد خاک کیے گئے۔ (تذکرۃ الحفاظ، سیر اعلام النبلاء، محدثین عظام حیات وخدمات)


Hafiz al-Hadith, Shaykh al-Islam, Imam al-Aimmah, Imam Abu Bakr Muhammad bin Ishaaq bin Khuzaymah Neyshaburi Shafi’i (Alayhir Rahmah) was born in 223 Hijri in Neyshabur, Razavi Khorasan, Iran. He was a Hafiz of the Holy Quran, illustrious Muhaddith, Shafi’i jurist, Mujtahid ‘ala al-Itlaaq, prolific author, and a marvelous personality. He traveled to Rey, Baghdad, Kufa, Basra, Syria, Hijaz, Iraq, Egypt, and Wasit to acquire sacred knowledge. ‘‘Sahih Ibn Khuzaymah’’ is his famous compilation of Hadith. He passed away on 2nd Dhu al-Qa’dah 311 AH and was laid to rest in his house in Neyshabur. [Tazkirat al-Huffaz, Siyat A’laam an-Nubala, Muhaddiseen-e ‘Uzzaam Hayat wa Khidmaat]

 

عاشق اعلی حضرت، ہمدرد سنیت، محبوب و مقبول بارگاہ مفتیٔ اعظم، حضرت مولانا الحاج صالح محمد المعروف پیرجی قادری رضوی نوری شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ


 

عاشق اعلی حضرت، ہمدرد سنیت، محبوب و مقبول بارگاہ مفتیٔ اعظم، حضرت مولانا الحاج صالح محمد المعروف پیرجی قادری رضوی نوری شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا تعلق بھٹکل نزر مرڈیشور، صوبہ کرناٹک، جنوبی ہندستان سے تھا۔ آپ مفتی اعظم کے مرید صادق تھے اور مفتیٔ اعظم ہی کی بارگاہ سے آپ کو ’’پیرجی‘‘ کا خطاب عطا ہوا اور پھر اسی نام سے جانے گئے۔ آپ کی زندگی کا اکثر حصہ بمبئی میں دین و سنیت کی خدمت کی گزرا۔ 29 شوال 1423ھ مطابق 3 جنوری 2003ء بروز جمعہ بوقت چاشت وصال فرمایا۔ مزار شریف بڑا قبرستان، مرین لائنس، بمبئی، ہندستان میں مرکز انوار و تجلیات ہے۔


Devotee of AlaHazrat, Sympathiser of Ahl as-Sunnah, Beloved of Mufti-e-Azam, Mawlana Al-Haaj Salih Muhammad alias Peer Ji Qadiri Ridawi Noori Shafi’i (Alayhir Rahmah) was originally from Bhatkal near Murdeshwar, Karnataka Province, South India. He was a sincere and faithful disciple of Mufti-e-Azam and from his court, he was bestowed with the title ‘‘Peer Ji’’, which later became his identity. Most of his life was spent serving the religion and Ahl as-Sunnah in Bombay. He left this mundane world on Friday, 29th of Shawwal 1423 AH i.e. 3 January 2003. His blessed resting place is at the Bara Qabrastran, Marine Lines, Bombay is a center of blessings and spiritual upliftment.

مرید و خلیفہ صدر الشریعہ، فقیہ اعظم ہند، شارح بخاری، حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی رضی اللہ عنہ

  مرید و خلیفہ صدر الشریعہ، فقیہ اعظم ہند، شارح بخاری، حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی رضی اللہ عنہ کی ولادت 11 شعبان 1339ھ کو قصبہ گھو...